کراچی: ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ وہ کامپٹیشن پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ سفارش پر اور انہوں نے ہمیشہ چیلنجز کو قبول کیا ہے، اس طرح ہمارے طلباء کو گریڈز کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ وہ علم حاصل کریں اور محنت پر یقین رکھیں، اس کے بعد نوکریاں ان کے پیچھے آئیں گی نہ کہ وہ نوکریوں کے پیچھے بھاگیں گے۔
یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر، وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری اور آئی بی اَی کراچی کے ڈین نے ڈاکٹر عشرت حسین نے بدھ کو سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے سر شاہنواز آڈیٹوریم میں ’’میرے تجربات اور ملاقاتیں‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی نے اپنی ”پاپولر لیکچر سیریز“ کے تحت اس لیکچر کا اہتمام کیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا تیسرا لیکچر ہے، اس سے قبل نثار میمن اور جاوید جبار اسی موضوع پر لیکچر دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ انہیں کمٹمینٹ سندھ یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران اس وقت کے اساتذہ سے ورثے میں ملی ہے کیونکہ وہ بے لوث، دیانتدار اور اپنے پیشے سے کمیٹیڈ تھے۔ وہ اپنے طالب علموں کی کامیابی پر فخر محسوس کر رہے تھے، اور ان کے لیے یہ فکر کی بات نہیں تھی کہ انھوں نے کتنا پیسہ کمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضمون میں کمزور تھا، اور مضمون کے استاد نے اسے کلاس مکمل ہونے کے بعد یہ سوچ کر پڑھایا کہ اس کا طالب علم کسی مضمون میں کمزور نہ ہو۔ اس وقت ٹیوشن کلچر نہیں تھا اس لیے آج تعلیم کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اس وقت کی سندھ یونیورسٹی کی فیکلٹی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علامہ آئی آئی قاضی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ اور ڈاکٹر ہالیپوٹو جیسے پاکستان کے عظیم ماہر تعلیم اور دانشور تھے، لیکن آج کے دور میں ہمیں ایسے عظیم دانشور نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے دانشوروں اور رول ماڈلز کی ضرورت ہے جو آج ہماری نوجوان نسل کو متاثر کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان دنوں نسلی اختلافات نہیں تھے، تمام طلبہ ایک دوسرے کے دوست تھے۔ مظہر الصدیقی (سابق وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی) میں اور دیگر طلبہ نے طلبہ یونینز کا الیکشن لڑا تھا۔ ڈاکٹر ادیب رضوی لیاقت میڈیکل کالج میں پڑھ رہے تھے، تب سے ہم بہترین دوست ہیں۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ انہوں نے اپنی اسکول، کالج اور پھر یونیورسٹی کی تعلیم حیدرآباد سندھ سے حاصل کی، کیونکہ سندھ یونیورسٹی حیدرآباد میں واقع تھی اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اسکول اور کالج کی تعلیم کا کردارسازی اور پیشہ ورانہ مہارت میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ انہیں امید نہیں ہارنی چاہئے بلکہ انہیں مسلسل جدوجہد اور محنت پر یقین رکھنا چاہئے۔ جب وہ شکارپور میں ڈپٹی کمشنر تعینات تھے تو علاقے کی طالبات کالج کی تعلیم کے لیے سکھر جاتی تھیں، پھر انھوں نے شکارپور میں لڑکیوں کے لیے کالج قائم کیا۔ اس کے بعد سیکڑوں طالبات نے تعلیم حاصل کی اور ملک اور بیرون ملک بھی اہم عہدوں پر فائز ہوئیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران منتخب کیے گئے مختلف پیشوں کی مثالیں دیتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر پیشہ بدلنا غلط نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے خود اپنے کیریئر کا آغاز سندھ یونیورسٹی میں لیکچر کے طور پر کیا، پھر کامپیٹیشن کا امتحان پاس کیا اور سول سروس میں آگئے، پھر مختلف قومی اور بین الاقوامی آرگنائیزیشنس میں بشمول ورلڈ بینک میں کام کیا۔ اس لیے ہماری نوجوان نسل کو اپنے والدین اور دوستوں کی مرضی کے بجائے اپنا پیشہ چننے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ برین ڈرین کو منفی رجحان کے طور پر نہیں لینا چاہیے، اس کے بجائے لوگ ملک سے باہر جائیں، وہاں سے تعلیم، علم، تجربات اور ہنر حاصل کریں، بین الاقوامی سطح پر ایکسپوئر انہیں حاصل ہو اور پھر اپنے ملک میں واپس آ کر ۔ بہتر طریقے سے اس کی خدمت کریں-
مقامی زبانوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر نے کہا کہ وہ سندھی اور بنگالی زبانیں بھی روانی سے بولتے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ جب میں مشرقی پاکستان میں خدمات انجام دے رہا تھا، تو وہاں پر میں نے چھ ماہ میں بنگالی زبان سیکھ لی تھی، جس سے مجھے مغربی پاکستان کے غریب لوگوں کے مسائل جاننے کا فائدہ ہوا۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا اور جب میرا تبادلہ ہوا تو مجھے مشرقی پاکستان کی چار بڑی سیاسی جماعتوں نے مل کر الوداع کیا کہ میں بنگالی میں بات کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک دن وہ شیخ عبدالمجید سندھی کے ساتھ ون یونٹ کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شامل تھے اور اس کے بعد انہیں ون یونٹ تحلیل کمیٹی کا ڈپٹی سیکرٹری بنا دیا گیا تھا۔ 1969 میں ون یونٹ کی تحلیل کے بعد سندھ کی نئی حکومت کے قیام کے دوران ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وسائل کی کمی تھی۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے ایس ایم آئی یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی کو ایس ایم آئی یو میں اس تقریب کا اہتمام کرنے پر سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی نوجوان نسل کے ساتھ بات چیت کرنا اچھا سمجھتے ہیں۔
قبل ازیں ڈاکٹر مجیب صحرائی نے اپنے تعارفی کلمات میں ڈاکٹر عشرت حسین کی زندگی کا مختصر خاکہ پیش کیا اور کہا کہ ہمیں ان کی وژن، دانشمندی، علم اور تجربات کے ذریعے ملک کی ترقی کے لیے دی گئی خدمات پر فخر ہے۔ ڈاکٹر صحرائی نے کہا کہ اس قسم کے لیکچر پروگرامز کے انعقاد کا بنیادی مقصد طلبہ کو اپنی ان عظیم شخصیات سے متعارف کرانا ہے جو ملک میں ایک رول ماڈل کے طور پر مانی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صحرائی نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین تمام شعبوں میں جہاں اپنی خدمات انجام دی ہیں ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔
ترک قونصل جنرل مسٹر جمال سانگو نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عشرت حسین کی پاکستان کی ترقی میں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کا تعلق بنیادی طور پر حسن علی آفندی آفندی کے حیدرآباد سے ہے اور وہ حسن علی آفندی کی وجہ سے حیدرآباد سے محبت کرتے ہیں۔
سیشن کے ماڈریٹر ڈاکٹر جمشید عادل ہالیپوٹو، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز تھے۔ محترمہ زونیرہ جلالی نے کارروائی چلائی۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ بعد ازاں ڈاکٹر مجیب صحرائی نے مہمانوں کو سووینئرز پیش کیے۔
سیشن میں مختلف تعلیمی شعبوں کے ڈینز، چیئرپرسنز، فیکلٹی، افسران، طلباء اور شہر کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
