کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ زاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔ عمرہ و حج اعلٰی درجے کی چیزیں ہیں، ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مقامی ہوٹل میں سعودی عرب کے 94 قومی دن کے حوالے سے "پاکستان سعودی عربیہ کے تعلقات ماضی، حال اور مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب سے کراچی میں سعودی قونصل جنرل، معروف اسلامی اسکالر و چیئرمین پاکستان علماء کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، محمد امین اللہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پاکستان اور سعودی عربیہ کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، مگر پاک و سعودی تعلق دنیا کے تمام ممالک سے تعلقات بالکل مختلف ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ ہمارا روحانی تعلق برقرار رہے گا اور اس روحانی تعلق کی وجہ خانہ کعبہ و مدینہ منورہ ہے۔ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ سعودی عرب سے سرمایہ کار پاکستان آئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں شامل مشکلات کو دور کرنے میں سعودی عرب نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کو زر مبادلہ کا مسئلہ رہا ہے، اس کو بھی انہوں نے دور کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 26 سے 27 لاکھ سے زائد پاکستان برسر روزگار ہیں، جو اس ملک میں زرمبادلہ کا بڑا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کا ہم اتنا فائدہ اٹھائیں کہ ہم خود کفیل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی وفود کی آمد روکنے کے لیے دشمن ممالک کا بڑا ہاتھ ہے، پاکستان میں شنگھائی کانفرنس ہونے جارہی ہے.
ملک دشمن عناصر و ممالک چاہتے ہیں کہ یہ کانفرنس نہ ہو. گذشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
