کراچی:بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ میئر کراچی ڈکٹیٹر اور ڈپٹی میئر شریف آدمی ہیں، سعید غنی کراچی کا بھلا نہیں چاہتے،مرتضیٰ وہاب منتخب نمائیندہ نہیں انہیں زبردستی بٹھایا گیا،کے ایم سی (کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن) کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں بارشوں کے دوراں سڑکیں ایک سال کے اندر تباہ ہیں اور صرف دو اسسٹنٹ انجینئرز کو معطل کیا گیا اور اسی ہی ٹھیکیدار کو سرجانی میں ٹھیکا دیا گیا ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے ایوان میں ایک قرارداد کے لیے بھی ووٹنگ نہیں ہوئی اور ایوان مکمل ہوجانے کے باوجود کمیٹیاں قائم نہیں کی گئیں۔چارجنگ پارک میں بہت کمائی ہے، سڑک کے ایک طرف کے ایم سی اور دوسری طرف ٹاؤن ٹیکس لیتا ہے، لائسنس کسی کے پاس بھی نہیں،سارا کام دونمبر ہورہا ہے۔
جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے بہتر کام کر رہے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی پابندی کے باوجود سڑکوں، پلوں اور دیگر سرکاری املاک پر اشتہارات کی بھر مار ہےاور کمائی بھی نہیں بتائی جاتی ۔ عالمی بینک سے لیے گئے قرض کا ٹیکس شہریوں کو دینا پڑے گا، جب تک بہتر فیصلے نہیں کیے جاتے شہر کی بہتری نہیں ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے بہتر کام کر رہے ہیں۔
بی آر ٹی منصوبہ ڈرامہ ہے
اپوزیشن لیڈ بلدیہ کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی ڈرامہ ہے، دیکھے اور سمجھے بغیر ایک پروجیکٹ لایا گیا،400 فٹ چوڑی سڑک کو 100 فٹ تک محدود کیا گیا ہے،ٹریفک جام رہی گی، اگر چند بسیں اسی روڈ سے گزاری جارتیں تو اچھا تھا،ایمرجنسی کے نام پر ریکارڈ رقم خرچ کی جاتی ہے۔
کراچی واٹر کارپوریشن ایک نااہل ادارہ
سیف الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کراچی واٹر کارپوریشن ایک نااہل ادارہ ہے،کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔چیئرمین سے ملاقات کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں، ٹیکس لگانا شہریوں سے ناانصافی ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر کا بیڑا غرق کیا ہے،کے الیکٹرک پھر بھی بہتر کام کرتا ہے۔

