
جامشورو(رپورٹ: فرحان مگریو) جامعہ سندھ جامشورو میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کی جانب سے ”ماحولیاتی تبدیلی، اس کے سماجی اثرات اور پاکستان میں 2022ء میں سیلاب کی تباہکاریاں“ کے زیر عنوان منعقد کردہ دو روزہ عالمی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی، جس میں موسمیاتی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مختلف سفارشات تیار کی گئیں۔
، سفارشات کے مطابق جدید زرعی کاشت کیلئے موسمیاتی سمارٹ زراعت کے طریقہ کار کو ہارپ فیلڈ اسکولوں میں سیشنز کے ذریعے پھیلایا جا سکتا ہے تاکہ کسانوں کو فائدہ مل سکے۔ خواتین کو بھی موسمیاتی سمارٹ ایگریکلچر ٹریننگز و سیشنز میں شامل کیا جائے تاکہ کسانوں کو 100 فیصد فائدہ مل سکے۔

ماہرین نے مزید سفارش کی کہ بدلتی ہوئی آب و ہوا نے موسموں کو تبدیل کردیا ہے، لیکن زرعی کاشت کے کیلنڈر (خریف و ربیع) پر نظرثانی، عمل اور حکومت کی مزید خدمات فراہم کرنی چاہئیں۔ سفارشات کے مطابق زراعت کے طریقوں کے تناظر میں ضلع سطح پر مقامی موافقت کی ترقی کیلئے صوبائی و ضلع سطح پر ایکشن پلان تیار کرنا چاہیئے۔ بہتر کام کرنے کی حکمت عملی تشکیل دی جائے، جس میں قومی، عالمی، سول سوسائٹی، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، عطیہ دہندگان کو ایک ہی صفحے پر لایا جائے۔
حکمت عملی کو نافذ کرنے کا منصوبہ موسمیاتی تبدیلی کے مضر صحت اثرات کا سامنا کرنے کیلئے قومی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے، صحت کے نظام کو لچکدار اور موافقت کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کی سفارشات میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے سندھ و بلوچستان صوبوں کو بے حد متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے 2022ء میں بارشوں و سیلاب نے تباہی مچائی اور سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔
پروفیسر ڈاکٹر حماداللہ کاکیپوٹو ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے صوبائی سربراہ جیمز اوکوتھ، تھائی لینڈ سے پروفیسر پاسانن اساوارک، اقوام متحدہ کے ایس آئی ایف کے پاکستان میں مشن کے سربراہ ڈاکٹر الطاف ابڑو، ڈاکٹر شیخ تنویر احمد، ڈاکٹر مسرت امین، دوست باریچ، منزہ مدین، ڈاکٹر منزہ ملک، پروفیسر خلیق الزمان مہیسر، ڈاکٹر ام کلثوم رند، ڈاکٹر فوزیہ عامر صدیقی، ڈاکٹر پسند علی کھوسو، ڈاکٹر فیصل حیدر شاہ و دیگر موجود تھے۔
