جنرل اسمبلی سے اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کے خطاب کے دوران پاکستان نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے گھر ملبے کے ڈھیر بن گئے، دنیا آنکھیں کیسے بند رکھ سکتی ہے۔اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی اور بربریت کا مظاہرہ کررہا ہے، پاکستانی عوام کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، فلسطینیوں پر مظالم اور بربریت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں بچوں کے زندہ درگور ہونے پر دنیا کب تک خاموش رہے گی، مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی فارمولے میں ہے، دو ریاستی فارمولے کے تحت فلسطین میں خاک و خون کا کھیل بند کیا جائے۔غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا منظم طریقے سے قتل عام کیا جارہا ہے، فلسطینیوں پر مظالم نظر انداز کرنے والے کیا انسان کہلانے کے قابل ہیں، معصوم فلسطینی بچوں، خواتین کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ معصوم فلسطینی بچوں، خواتین اور شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہا جاسکتا، فلسطین کو فوری اقوام متحدہ کا ممبر تسلیم کیا جائے۔فلسطین کے معاملے پر مذمت کافی نہیں بڑے ممالک حرکت میں آئیں اور آگ و خون کا کھیل فوری بند کروائیں، عالمی برادری کو پائیدار امن کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا۔اب لبنان میں اسرائیلی جارحیت شروع ہوگئی ہے، لبنان میں اسرائیلی جارحیت سے خطے میں بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی مقبوضہ کشمیر میں باہر سے لوگوں کو لاکر آباد کیا جارہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا فیصلہ کُن جواب دے گا خطے میں امن کے لیے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدامات ختم کرنے ہوں گے۔ دنیا میں اسلاموفوبیا کےبڑھتے واقعات بھی پریشان کُن ہیں، بھارت میں مسلمانوں کےخلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ بھی تشویش ناک ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے بہادر جوان، بچے اور شہری اس ناسور کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے، فتنہ الخوارج کے عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، عزم استحکام کے ذریعے امن و سلامتی یقینی بنائیں گے۔ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کرے، افغانستان میں موجود داعش، القاعدہ اور فتنہ الخوارج امن کے لیے خطرہ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پر اہم چیلنج ہیں۔ دو سال قبل تباہ کن سیلاب سے پاکستان میں 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے پر عزم ہیں۔
