آباد اور نیوٹیک کے درمیان ایم او یو تعمیراتی صنعت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا: آصف سم سم
کراچی: پاک
ستان کی کنسٹرکشن انڈسٹری کوفروغ دینے اور ملکی معیشت کی ترقی کے لیے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (نیوٹیک) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔اس سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں آباد کے چیئرمین آصف سم سم اور نیوٹیک کے رجسٹرار برگیڈیئر سید عدنان قاسم نے مفاہمت کی یاداشت (ایم او یو) پر ؓٓ دستخط کیے۔
تقریب میں نیوٹیک کی جانب سے جنرل معظم اعجاز جبکہ آباد کی جانب سے آباد کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر اور دانش بن رؤف بھی شریک تھے۔
معاہدے کے تحت آباد تعمیراتی شعبے کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعمیراتی ٹیکنالوجی، اسکلز جیسے پروجیکٹس پر نیوٹیک کو اس کی اکیڈمک اور ریسرچ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرے گا۔
آباد کے بھرپورتعاون سے نیوٹیک تعمیراتی شعبے کے لیے عالمی معیار کی تعلیم اور تربیت سے عالمی معیار کی ایک انتہائی قابل اور موثر افرادی قوت مہیا کرے گا۔آبادکے تعاون سے نیوٹیک پاکستان کی تعمیراتی صنعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی معیارکے کوالیفائیڈ ماسٹر ٹرینرتیار کرے گا۔آباد نیوٹیک کی مختلف کمیٹیوں کے لیے اپناایک ماہرتعمیرات نامزد کرے گا یعنی نیوٹیک کی ہر ایک کمیٹی مثلا داخلہ کمیٹی ،اکیڈمک پرفارمنس کمیٹی وغیرہ میں میں آباد کاایک نامزد ممبر ہوگا۔ یہ کمیٹیاں باہمی اتفاق سے تعمیراتی شعبے کے فروغ کے سلسلے میں اییجوکیشن پروگرامز تیار کریں گی۔
اس موقع پر آباد کے چیئرمین آصف سم سم نے کہاکہ آباد اور نیوٹیک کے درمیان ایم او یو تعمیراتی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ مستقبل کے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے تعمیراتی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی اور ایک ہنر مند اور موثر افرادی قوت کی ضرورت ہے۔
آصف سم سم کا کہنا تھاکہ آج کی ترقی کرتی ہوئی دنیا میں تعمیرات صرف اینٹوں اور گارے کے بارے میں نہیں ہیں یہ اسمارٹ،پائیدار اور اختراعی حل کے بارے میں ہے جوہمارے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرسکتا ہے اور یہ وہی جگہ ہے جہاں ہمارا نیوٹیک کے ساتھ تعاون بہت اہمیت رکھتاہے۔
چیئرمین آصف سم سم نے کہا کہ ایم او یو کے ذریعے ہمارا مقصد مقامی تعمیراتی ٹیکنالوجیزبنانا،تیار کرنااور منتقل کرناہے جو عالمی منڈی میں بھی برآمدکی جاسکیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد تعلیمی تحقیق کو فروغ دے کر اور عملی تربیت سے افرادی قوت کو جدید مہارتوں اور جدیدٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔
