پاک فوج کے شعبے اطلاعات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کورکمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹر میں ہوئی۔
کو کمانڈرز کانفرنس میں شہدا کے ایصال ثواب کلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور فورم نے پاکستان کے امن، استحکام کیلئے شہدائے افواج پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
فورم نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، شہریوں کی بلوچستان اور کے پی میں قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو خطے کی صورتحال ، قومی سلامتی کو درپیش چیلینجز، بڑھتے خطرات کے جواب میں آپریشنل حکمت عملی پر بریفنگ دی گی۔
فورم نے ملک خصوصا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سرگرم ملک دشمن قوتوں کے تدارک، منفی اور تخریبی عناصر، ان کے پاکستان مخالف اندرونی و بیرونی سہولتکاروں کی سرگرمیوں کے تدارک کیلئے اقتدامات پر بھی غور کیا گیا۔
آئی آیس پی آر کے مطابق کو کمانڈر کانفرنس نے کہا کہ فوج میں موجود کڑے احتسابی نظام پر عملدارآمد ادارے کے استحکام کیلئے لازم ہے اور کوئی بھی فرد احتساب کے عمل سے بالاتر اور مستثنیٰ نہٰں ہوسکتا۔غیر متزلزل عزم سے مضبوط، کڑے احتساب سے اپنی اقدار کی پاسداری کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ احتساب میں کسی قسم کی جانبداری، استثنیٰ کی کنجائش نہیں ہوتی،کوئی بھی فرد اس عمل سے بالاتر اور مستثنیٰ نہیں ہوسکتا، پاک فوج عوام کی غیرمتزلزل حمایت سے انسداد دہشتگردی کیلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دے گی، فوج منظم ادارہ ہے، اس کے ہر فرد کی پیشہ ورانہ مہارت، وفاداری صرف ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مضبوط اور مؤثر قانونی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاک فوج دہشتگردوں، انتشارپسندوں، جرائم پیشہ مافیاز کے خلاف قانونی کارروائی میں تعاون کرتی رہے گی۔ پاک فوج حکومت، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جامع تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ فورم نے دہشتگرد نیٹ ورکس کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کوششوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کو کمانڈرز کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیا اور تحریک آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا، فورم نے اسرائیل کی نہتے فلسطینیوں پر جاری بربریت، نسل کشی کی بھی مذمت کی۔پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور پیشہ ورانہ مہارت کے حصول میں اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کا اعادہ کیا۔
