
شکاگو میں جب مزدور اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے تو پولیس نے ان پر بدترین تشدد کے ساتھ ساتھ بم حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک پولیس والا بھی جاں بحق ہو ، بجائے اپنی غیر انسانی حرکت پر معافی مانگنے کے پولیس نے الٹا مزدوروں کو ہی حملے کا ذمہ دار ٹھرا کر اپنے سرمایہ دارانہ نظام انصاف کے ہاتھوں چار مزدوروں کو پھانسی چڑھا دیا۔
یہ سن 1886 میں امریکی ریاست شکاگو کا واقعہ ہے جہاں مرنے والوں مزدوروں کا قصور ایک دن میں 16 گھنٹے کی طویل ڈیوٹی کی بجائے 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کا مطالبہ کرنا تھا۔
لیکن ان کا مطالبہ نہ تو ریاست مان رہی تھی اور نہ وہاں کے سرمایہ دار ، کئی دن چلنے والے اس خون خرابے میں اپنی جیت پر خون سے سرخ قمیض کسی مزدور نے ہوا میں بلند کردی یوں پھر سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ اور یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن بن گیا ۔۔
تب سے اب تک یومِ مزدور منایا جاتا اور یقین کیجئیے بس منایا ہی جاتا ھے ۔ حقیقتاً دیکھیں تو مزدروں کے مسائل کم نہیں ہوئے ، انہیں آج بھی انکی مزدوری دیئے بغیر کام سے نکال دیا جاتا ہے ۔ ان کے بچے آج بھی جبراً مشقت کرنے پر مجبور ہیں ۔
یہ مزدوری کرتے بچے جنہیں ھم چائڈ لیبر کہتے ہیں ، میں آج لیبر کی اسی قابل رحم قسم پر بات کرنا چاہتا ہوں ، چائلڈ لیبر کے حوالے سے ھم دنیا جہاں کی باتیں پھر کسی دن کرلیں گے آج صرف ھم پاکستان اور بلخصوص اپنے صوبہ سندھ میں موجود بدترین تشدد میں کام کرنے والے بچوں کی بات کریں گے
مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 25 لاکھ بچہ مزدوری کر رہا ہے ۔ ان میں 60 لاکھ کے قریب صرف سندھ میں ہیں ۔ مطلب ٹوٹل بچوں کے نصف تعداد صرف صوبہ سندھ میں مزدوری کر رہی ہے ۔۔ اس سے بھی زیادہ ہلا دینے والی بات یہ ہے کہ ان میں 7 لاکھ وہ بچہ ہے جو سندھ کی زمینداروں کے کھیتوں میں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بن کر کام کر رہا ہے ۔۔
7 لاکھ تو یہ ہوگیا اب سنیں باقی بچے سندھ میں کیا کرتے ہیں ۔ ؟؟
یہ تمام بچے کم اجرت والے کاموں پر لگائے گئے ہیں وہ تمام کام جو کم پیسوں کی وجہ سے بڑے نہیں کرتے ، اور پھر کمزور معاشی حالات کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کو اپنے بچے ان کاموں پر بھیجنے پڑتے ہیں ۔
میرا تعلق سندھ کے علاقے تھرپارکر سے ہے ، وہاں میں نے ان بچوں کو چھ چھ ہزار پر سیٹھوں کے گھروں میں برتن صاف کرتے ، صفائی کرتے اور ان کے مال مویشی سنبھالتے دیکھا ہے ۔ کچھ تو یہاں کراچی کے کچھ بنگلوں میں امیر زادوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں ۔۔
یہ بچے پورے سندھ میں اینٹوں کے بھٹے ، قالین سازی کے کارخانوں ، فیکٹریوں اور کھیتوں میں جبراً کام کرنے پر مجبور ہیں ۔
جہاں انہیں مسلسل مارا جاتا ہے ۔ مارنے والی یہ بات میں خود سے نہیں کر رہا ، یہی بات سندھ میں بچیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ” دستک ” کی ڈائریکٹر محترمہ صبا شیخ تصدیق کے ساتھ کرتی ہیں ۔
آپ ذرا ان کی رائے لیں کہ کیسے سندھ میں چائلڈ لیبر کی فیکٹریاں سرگرم ہیں ۔ جہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے بننے والے تمام قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھ کر تعلیم حاصل کرنے اور کھیلنے کودنے کی عمر والے بچوں کو جبراً مزدور بنایا گیا ہے۔
میں حیران ہوں ، جب آرٹیکل 11 واضح طور پر چائلڈ لیبر سے روکتا ھے تو آخر کیوں ہماری حکومتیں اس پر عمل کروانے سے بھاگتی ہیں ؟؟ سندھ میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین پاس ہونے کے باوجود آخر وہ کونسے سرمایہ دار ہیں جو ان قوانین پر عمل نہیں ہونے دے رہے ۔؟؟؟
سندھ کی عدالتیں کن کے ہاتھوں مجبور ھیں ؟؟؟ وہ سارنگ شر جیسے لوگوں کو تو بروقت انصاف مہیا کر رہی ہیں لیکن یہاں لاکھوں بچوں کے حقوق پر کیوں آنکھیں بندھ کر لیتی ھیں ؟؟ سوال یہ ہے کہ مزدوروں کی عالمی تحریک میں رکاوٹ ڈالنے والے شکاگو کے سرمایہ داروں کی طرح کیا ہمارے سرمایہ دار میں سندھ کے بچوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مزدور ہی رکھنا چاہتے ہیں ؟؟
لگتا ہے کہ اس کا جواب ” ہاں ” ہی ہے ، اور اگر واقعی یہی جواب ہے تو یقیناً ھم مزدوروں کا عالمی دن منانے کی ایک عالمی روایت کو ہی فالو کر رہے ہیں عملاً نہ کچھ مزدوروں کے لیے کر رہے ہیں اور نہ ہی چائلڈ لیبر کے نام پر ان کے بچوں کے استحصال کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔۔
