یونیورسٹی ایگریکلچر ٹنڈوجام کی طرف سے کراچی پہلا کھجور فیسٹیول کا انعقاد
کراچی: وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد علی ملکانی نے دو روزہ کھجور فیسٹیول کا افتتاح کردیا۔
اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی بئریسٹر ھالار وسان, سیکریٹری یو اینڈ بی محمد عباس بلوچ, سیکریٹری زراعت رفیق احمد برڑو, وائیس چانسلر زرعی یونیورسٹی فتح محمد مری, سندھ ھائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع بنیری, نائیجر یونیورسٹیز کے وائیس چانسلرز, سندھ کے زرعی ماہرین اور صوبے بھر سے آئے کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام اور نائیجر کی تین یونیورسٹیز کے مابین مختلف ایم او یوز پر دستخط کیے گئے جن کے مطابق دونوں ملکوں کی یونیورسٹیاں کھجور اور آم سمیت مختلف اجناس کی ورائٹیز میں مزید تحقیق کے لیے ایک دوسرے کی معاونت کرینگسے خطاب کرتے ہوئے وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد علی ملکانی نے کھجور فیسٹیول میں شرکت کرنے پر بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج سندھ کے زرعی ورثے اور خاص طور پر خیرپور میں کھجور کی شاندار کاشت کا جشن منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کے زیر اہتمام ڈی ایچ اے کریک کلب کراچی اور حکومت سندھ کے اشتراک سے یہ فیسٹیول زرعی اجناس کو فروغ دینے، اپنے کسان بھائیوں کی مدد کرنے اور ہمارے صوبے کی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھجور ہمارے ثقافتی اور زرعی ورثے میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ صدیوں سے خیرپور بہترین شاندار کھجوروں کا دیس جانا جاتا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مشہور ہے۔ ہمارا صوبہ ملک میں کھجور کی پیداوار کا مرکز ہے، جو قومی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ کھجور کی اصیل قسم، بنیادی طور پر خیرپور میں اگائی جاتی ہے، اس کی مٹھاس، طویل شیلف لائف، اور اعلیٰ معیار اسے مقامی اور عالمی منڈیوں میں ایک قیمتی تحفہ بناتی ہے۔
محمد علی ملکانی نے کہا کہ آج کا تہوار صرف اس سنہری پھل کا جشن نہیں، بلکہ ہمارے کسانوں، محققین، اور کاروباری افراد کی محنت اور لگن کو تسلیم کرنے کا ایک موقع بھی ہے جو اس شعبے کی وسعتوں کے نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ حکومت سندھ ہمیشہ زراعت کی ترقی کے لیے مکمل سپورٹ کرنے کے لیے پرعزم رہی ہے، اور ہم زراعت کی بیپناہ صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔
