ایم ڈی ایس ایس جی سی نے گئس کے دو بڑے منصوبوں کا افتتاح کردیا

مینیجنگ ڈائریکٹر عمران منیار نے گھریلو اور صنعتی شعبوں کو گیس پہنچانے کے دو بڑے منصوبوں کا افتتاح کیا.

ایک کسٹمر سینٹرک ادارے کے طور پر، سوئی سدرن گیس کمپنی مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی سہولیات کو بہتر کر کے صارفین کو ان کی گیس سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہتی ہے.

اسی سلسلے میں ایک ماسٹر پلان کے حصے کے طور پر، کمپنی کراچی اور ملحقہ علاقوں میں گیس پائپ لائن کی توسیع کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے جس کا مقصد گیس کے پریشر میں اضافے کو یقینی بنانا ہے. سوئی سدرن نے حال ہی میں دو منصوبے مکمل کیے ہیں جن میں سے ایک شیدی گوٹھ سے فیوچر کالونی تک ۲۰ انچ قطر ۱۱ کلومیٹر پائپ لائن منصوبہ اور دوسرا عظیم پورہ سے جام صادق علی پل تک ۲۰ انچ قطر ۹ کلومیٹر پائپ لائن منصوبہ ہے. یہ ادارے کے ماسٹر پلان کے پانچ منصوبوں میں سے دو ہیں.

سوئی سدرن کے منیجنگ ڈائریکٹر عمران منیار نے ایس ایم ایس شیدی گوٹھ کے مقام پر دونوں تاریخی منصوبوں کا افتتاح کیا .اس موقع پہ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گیس کی فراہمی اور پریشر میں اضافے کے لیے کمپنی کے عزم کا اعادہ کیا جس سے کراچی کے مصروف صنعتی علاقوں میں گیس کی طلب پوری ہوگی جو صنعتی اور گھریلو دونوں شعبوں میں واقع ہیں. انہوں نے ان منصوبوں کو جلد مکمل کرنے  پر تمام متعلقہ ٹیموں کے مثالی کردار اور مخلصانہ کاوشوں کو سراہا. قبل ازیں ڈی جی ایم (پی اینڈ سی) محمد نور میمن نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا. تقریب میں کمپنی کے ڈویژنل اور ڈپارٹمنٹل سربراہان اور ایگزیکٹوز نے بھی شرکت کی. کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی نمائندگی ان کے سابق چیئرمین احتشام الدین اور کمیٹی ہیڈ برائے ریگولیٹرز ریحان جاوید نے کی.

شیدی گوٹھ تا فیوچر کالونی منصوبہ 1002 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے. منصوبے کی تکمیل سے کورنگی انڈسٹریل ایریا کو سیلز میٹر اسٹیشن (ایس ایم ایس) ملیر سے علیحدہ مخصوص لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا. کورنگی انڈسٹریل ایریا کو دو مختلف ایس ایم ایس، جس کا آدھا حصہ ایس ایم ایس شیدی گوٹھ اور دوسرا آدھا حصہ ایس ایم ایس ایف جے ایف سی (فوجی جورڈن فرٹیلائزر کمپنی) سے فراہم کیا جائے گا. اس منصوبے سے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں بہتر سروس ڈیلیوری ممکن ہو سکے گی اور کم پریشر پر ایس ایم ایس ملیر چلانے میں مدد ملے گی اور اس طرح یو ایف جی نقصانات میں کمی آئے گی اور کورنگی کے صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کے لیے گیس پریشر بہتر ہوگا. تعمیراتی سرگرمیاں جنوری 2024 میں شروع ہوئیں اور یہ منصوبہ جون 2024 کے مہینے میں تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا گیا.

دوسری جانب عظیم پورہ سے جام صادق علی پل منصوبے کی تکمیل پر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ ہوئے. یہ منصوبہ جنوری 2024 میں ڈی ایچ اے، کلفٹن، آئی آئی چندریگر روڈ اور وسطی ریجن کے دیگر علاقوں میں گیس کی فراہمی میں اضافے کے لیے شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ایس ایم ایس ملیر سے ایک مخصوص پائپ لائن فراہم کرنا تھا جس کا مقصد ان علاقوں میں گیس کی موثر تقسیم کو یقینی بنانا اور گیس کی طلب کو پورا کرنا تھا. کم پریشر پر ایس ایم ایس کے ٹی کو چلانے کے قابل بنانے کے علاوہ، منصوبے کا مقصد پائپ لائن کے ذریعہ خدمات انجام دینے والے علاقوں میں یو ایف جی نقصانات کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے. علاقے میں پریشر میں 20 پی ایس آئی تک کی بہتری آنے کی توقع ہے جس سے سسٹم آئی آئی چندریگر روڈ تک گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوجائے گا. یہ منصوبہ جون 2024 میں مکمل کیا گیا.

قائم مقام سینئر جنرل منیجر (ٹیکنیکل سروسز ڈویژن) غلام معین بٹ نے ان منصوبوں کی کامیابی کا سہرا پی اینڈ ڈی ہیڈ آفس، پی اینڈ ڈی ڈسٹری بیوشن ساؤتھ، پروجیکٹس اینڈ کنسٹرکشن (پی اینڈ سی)، پروکیورمنٹ، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن کراچی، فنانس، سٹورز، لینڈ، ایچ ایس ای کیو اے، سیکیورٹی سروسز اینڈ کاؤنٹر گیس تھیفٹ آپریشنز، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور دیگر محکموں کے بروقت تعاون کو قرار دیا. انہوں نے خاص طور پر پی اینڈ سی کی متحرک ٹیم کی تعریف کی جنہوں نے انتہائی  خراب موسمی حالات کے باوجود منصوبے پر عمل درآمد کیا. ڈی جی ایم انچارج (پی اینڈ سی) غلام علی مہر نے ماسٹر آف تقریب کی حیثیت سے کارروائی کی نظامت کی.

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں