بنگلادیش میں طلبہ کے احتجاج کے بعد کرفیونافذ، گولی مارنے کا حکم

ڈھاکا: بنگلادیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے۔

حکومت نے احتجاج پرقابو پانے کیلئے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا جبکہ امن امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز احتجاج کے دوراں پولیس نے مظاہرین پر فائر کھول دیا جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے،بنگلادیش میں 5 روز سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے۔

حالات پر قابو پانے کیلئے پہلے دن صرف پولیس میدان میں تھی، پھر بارڈڑگارڈ فورس کو ان کی مدد کیلئے حکم دیا گیا پھر بھی حالات قابو میں نہ آنے پر کرفیو نافذ کرکے جو کو تعینات کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 1971 میں جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دیے جانے کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا جس کے بعد مظاہروں میں شدت آگئے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں