بولیویا میں بغاوت کی کوشش، فوج صدارتی محل میں گھسنے کے بعد واپس روانہ

لاطینی امریکی ملک بولیویا میں فوج نے صدارتی محل سمیت متعدد سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا اور دارالحکومت میں سینٹرل اسکوائر پر بھی قبضہ کرلیا

بولیوین صدر کی جانب سے عوام سے ممکنہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے گھروں سے نکلنے اور عالمی حمایت کی اپیل کے بعد فوج صدارتی محل سمیت دیگر عمارتوں سے واپس روانہ ہونا شروع ہو گئی

رپورٹس مطابق فوجی حملے کے بعد صدر لوئس آرس نے فوجی اہلکاروں کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر غیر متحرک ہونے کا مطالبہ کیا

صدر لوئس آرس نے اپنے ویڈیو بیان میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ بظاہر ہونے والی کسی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں جبکہ فوجی افسران کو حکم دیا کہ اگر وہ ملٹری کمانڈ کی لائن کا احترام کرتے ہیں تو تمام فورسز کو واپس بلا لیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں