سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 25 اور پینشن میں 15فیصد اضافہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے18 کھرب 87 ارب سے زائد کا بجٹ پیش کیا، اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ، سنی اتحاد کونسل کے ارکان کا اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج اور نعرے لگا تے رہے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا ہوگی، اسٹیڈ بائی معاہدے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی

وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹینڈ بائی معاہدے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا، مہنگائی مئی میں کم ہوکر 12فیصد تک آگئی اور اشیائے خورد و نوش عوام کی پہنچ میں ہیں،آنے والے دنوں میں منہگائی میں مزید کمی کا امکان ہے، ہماری مالیاتی استحکام کی کوششیں ثمر آور ہورہی ہیں، سرمایہ کار متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ روزگار کی فراہمی میں زراعت کا حصہ 37 فیصد ہے، کیپیٹل گین ٹیکس فائلر کیلئے 15 فیصد اور نان فائلر کیلئے 45 فیصد مقرر،موبائل فونز پر 18 فیصد ٹیکس کی تجویز، کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کیلئے 8 ارب روپے مختص کیئے گئے، 1 سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد، 17 سے 22 گریڈ کے ملازمین کی تنخوا میں 22 فیصد جبکہ رٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں