
کراچی: سیاسی اور سماجی رہنما شازیہ خان نے کہا ہے کہ کراچی میں سفاک ڈکیت بے لگام ہوچکے ہیں ۔شہر میں ڈاکوؤں کی یلغار ہوچکی ہے گلشن اقبال میں ڈکیتی مزاحمت پر مکینکل انجنئیر اور گولڈ میڈلسٹ ارتقا کو ماردیا گیا۔ سندھ حکومت ، پولیس اور جگہ جگہ پارک ، گراؤنڈ اور قبریں کھود کھود کراسلحہ نکالنے والی رینجرز کو بائیکوں پر کھلے عام اسلحہ لیئے شکار کی تلاش میں گھومتے ڈکیت نظر نہیں آتے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے ہم جنگل میں رہ رہے ہیں۔ یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے ۔ کب تک یہ نسل کشی کی جاتی رہے گی ؟ آخر کب تک اس شہر میں رہنے والے اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھاتے رہیں گے ؟ رینجرز ، پولیس سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں سحری کے ٹائم لوگ دودھ دہی وغیرہ لینے جلدی جلدی میں گھر سے جاتے تھے اور رات 3 بجے سے پولیس والے شکار کرنے کھڑے ھو جاتے تھے نماز روزے سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں لوگوں کو روک لیتے ہیں وہ لوگ لاکھ منت کرتے ہیں کہ بھائی سحری کا ٹائم ختم ھو جائے گا جانے دو یہ میں نے پورے رمضان خود دیکھا ہے اپنی گیلری سے اور دھاڑی پوری ھوگی تو یہ جا وہ جا انتہائی ہتک آمیز رویہ ھوتا ہیں ان کا دن دھاڑے ڈاکو نظر نہیں آتے یا پھر ان ڈاکوؤں سے ففٹی ففٹی پر معاملہ طے ھوگا لگتا ایساہی ہیں پولیس تو خود ڈکیتوں کی سرپرستی کر رہی ہے افسوس صد افسوس کہ سندھ پولیس صرف شریف شہریوں کو تنگ کرتی ہے پورے کراچی شہر میں ہر بڑی چھوٹی سڑک روڈ پر ہر سگنلز پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو بڑی مہارت ذہانت کے ساتھ آپنے ٹارگیٹ کو روک کر رشوت مانگی جاتی ہے نہ دینے کی صورت میں چالان کاٹ دیا جاتا ہے
سماجی رہنما شازیہ خان نے کہا کہ غریب موٹر سائیکل سواروں کار سواروں کو روکا جاتا ہے اور کھلے عام کہتے ہیں کہ اوپر تک دینا پڑتا ہے ، پولیس کی اب ضرورت ہی کہاں ہے بلکل بیکار ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کی سہولت کیلئے ہوتے ہیں۔مگر یہاں روکاوٹیں ڈالنے کے لیے ہیں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ظالم مضبوط ہے المیہ یہ ہے کہ مظلوم تقسیم ہیں۔ ہمارے محافظ خود لٹیرے ہو گئے ہیں ،، سندھ حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ اس ادارے میں مقامی پولیس کو بھرتی کریں اور ان کا گشت رہائشی گلیوں میں بڑھا دیں۔
