
کراچی: سندھی لینگویج اتھارٹی نے آرٹس کونسل کراچی میں "دوسری بین الاقوامی سندھی زبان کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ جس میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے شرکت کی۔

اس موقع پر ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری، ڈاکٹر امجد سراج میمن، ڈاکٹر قاسم بگھیو، ڈاکٹر انجم الطاف، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو، آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے خطاب کیا۔
کانفرنس میں ماہرین لسانیات، سکالرز، محققین، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں صوبائی وزیر سیاحت، ثقافت، نوادرات و آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ سید ذوالفقار علی شاہ اور صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ سندھی کو رومن رسم الخط ہونا چاہیے جو موجودہ رسم الخط کی جگہ لے لے۔ سندھی زبان جو رسم الخط نہیں سمجھ سکتے، وہ بھی رومن رسم الخط میں آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھی زبان کو آسان بنانے کے لیے ’رومن‘ رسم الخط کی اشد ضرورت ہے، جس پر سندھ کے دانشوروں کو کام کرنا چاہیے اور سندھی لینگویج اتھارٹی کی منظوری کے بعد اس رسم الخط کو سندھ میں سرکاری سطح پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اسحاق سمیجو نے صوبائی وزراء سید ذوالفقار علی شاہ اور سید سردار علی شاہ کو اجرک اور یادگاری شیلڈ کے تحائف پیش کیے۔ کانفرنس سے ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری، ڈاکٹر قاسم بگھو، ڈاکٹر انجم الطاف، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو، آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ اور دیگر نے خطاب کیا۔
