سندھ میں غذائی قلت پر ورکشاپ کا انعقاد

کراچی:سندھ میں غذائی قلت پرکثیر شعبہ جاتی ہم آہنگی وحکمت عملی ہےورکشاپ کراچی کی ایک نجی ہوٹل میں منعقد کیا گیا

تقریب میں وزیر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا پیچوہو، چیف سیکریٹری سندھ، کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک ناجی بینہسین، ورلڈ بینک کی ریجنل ڈائریکٹر برائے انسانی ترقی مسز نکول کلنگن، جنوبی ایشیا ریجن کے متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکریٹریز، ورلڈ بینک کی ٹیم، ترقیاتی شراکت دار، قومی اور بین الاقوامی ادارے اورفیلڈ ماہرین نے شرکت کی

وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ میں غذائی قلت سے متعلق ورکشاپ میں خطاب میں کہا کہ اس ورکشاپ بلانے پر وزیر اینڈ چیئرمین پی اینڈ ڈی ناصر شاہ اور ورلڈ بینک کی ٹیم تعریف کے مستحق ہیں،عالمی بینک کی نکول کلنگن کو سندھ آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں،سندھ ہمیشہ سے امن اور رواداری کی سرزمین رہی ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی ہماری پہچان ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے میں اسٹنٹنگ کی موجودہ شرح کو کم کرنے کے لیے ہمیشہ پرعزم ہے،ہم نے 2017 میں عالمی بینک کے تعاون سے سٹنٹنگ کو کم کرنے کیلئے ایکسلریٹڈ ایکشن پلان شروع کیا،سٹنٹنگ اور غذائی قلت کی دیگر اقسام کو کم کرنے کیلئے کثیر شعبوں پر بات چیت ہوئی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ غذائیت سے متعلق حساس شعبوں جیسے لائیو سٹاک، فشریز اور زراعت کو پروگرام میں شامل کیا گیا،آؤٹ پیشنٹ تھراپیٹک پروگرام (OTP) خصوصاً غذائی قلت کے شکار بچوں کیلئے بنایا گیا ہے،بہت سی صحت کی سہولیات کو حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے،حکومت نے اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ملکر اس اہم رجحان پر توجہ دلائی ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں اسٹنٹنگ کا براہ راست تعلق غربت، آمدنی اور سماجی تحفظ سے ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے سماجی تحفظ کیلئے علیحدہ محکمہ بنایا ہے،عالمی بینک کی مدد سے ہم نے سماجی تحفظ سے متعلق حکمت عملی یونٹ شروع کیا،اس پروگرام سے براہ راست نقد رقم متاثرین تک منتقل کرنا شامل ہے،شعبہ صحت میں مذکورہ پروگرام پر 1000 دن کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین کو وافر مقدار میں خوراک ملتی ہے،جس سے نومولود بچے کی غذائیت کا شکار ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔غذائی قلت ایک تشویشناک مسئلہ ہے جس سے ہمیں ہر قیمت پر نمٹنا ہوگا۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقی میں ایک ٹاسک فورس قائم ہے جو غذائی قلت کے خاتمہ کیلئے کام کررہا ہے،حکومت سندھ ہر قسم کی غذائی قلت سے چھٹکارا پانے کیلئے کوششیں کرنے کیلئے پرعزم ہے،صوبائی وزیر اور چیئرمین پی اینڈ ڈی سے کہوں گا کہ وہ تمام شعبوں، محکموں کی باہمی روابط کو مضبوط کریں۔2022 میں کے سیلاب نے سندھ کے لوگوں کو تباہی سے دوچار کیا اور معاشرے کا ہر طبقہ شدید متاثر ہوا،کوئی بھی شعبہ، چاہے وہ تعلیم ،صحت، زراعت ہو یا مویشی اس سیلابی آفت سے محفوظ نہ رہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے انسانی جانوں کو بچانے اور انکو دستیاب اپنے قلیل وسائل سے پناہ دینا ہے،20 ہزار اسکول جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے اور سیکڑوں صحت کی سہولیات زیر آب آئیں،ہماری حکومت آزمائش اور مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی رہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں