بھارتی وزیر دفاع کا مزید پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اعترافِ جرم ہے، پاکستان

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خود مختاری کے تحفظ کیلئے مکمل پرعزم ہے ۔ عالمی برادری کو بھارت کے گھناوٴنے اور غیر قانونی اقدامات پر محاسبہ کرنا چاہیے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ 25 جنوری کو پاکستان نے بھارتی دراندازی کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے، یہ پاکستان میں بھارت کے ماورائے عدالت اور بین الاقوامی قتل عام کی مہم کے واضح ثبوت ہیں، بھارت کا مزید شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ واضح طور پر جرم کا اعتراف ہے، عالمی برادری کو بھارت کے ان گھناوٴنے اور غیر قانونی اقدامات پر محاسبہ کرنا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خود مختاری کے تحفظ کیلئے مکمل پرعزم ہے، فروری 2019ء کو بھی بھارت کو جارحیت پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس اقدام نے بھارت کے فوجی برتری کے کھوکھلے دعووٴں کو بے نقاب کیا، انتخابی فائدے کے لیے بھارتی حکمران نفرت انگیز بیان بازی کا سہارا لے رہے ہیں، بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، ہماری امن کی خواہش کو غلط نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاریخ پاکستان کے پختہ عزم اور اپنے بھرپور دفاع کی صلاحیت کی گواہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد ہمارے ملک میں کارروائی کے بعد سرحد پار کرجاتا ہے تو پاکستان میں داخل ہو کر اس کو مار دیں گے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے نشریاتی ادارہ سی این این نیوز18 کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر کوئی دہشت گرد کارروائی کرنے کے بعد پاکستان میں جا کر پناہ لیتا ہے تو ہم وہاں داخل ہو کر کارروائی کریں گے۔بھارتی وزیردفاع کی جانب سے یہ بیان برطانوی اخبار گارجین کی اس رپورٹ کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت کے حکم پر بیرونی سرزمین میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں 2020 سے اب تک 20 افراد قتل کردیے گئے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں