یوم پاکستان پریڈ، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہان شریک

ملک بھر میں آج یوم پاکستان قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،

یوم پاکستان کے دن پر وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے اور اسلام آباد کے شکر پڑیاں گراؤنڈ میں مسلح افواج کی پریڈ جاری ہے

صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلح افواج کے سربراہان یوم پاکستان پریڈ میں بھی شریک ہیں۔

یوم پاکستان پریڈ میں جنگی ہتھیاروں کی نمائش کے ساتھ ساتھ  پاکستان ائیرفورس کے جدید ترین طیارے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ اور فوجی دستے سلامی پیش کریں گے۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن عبدالعزیز یوم پاکستان پریڈ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم پاکستان پر پیغام

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پوری قوم یوم پاکستان کی روح کے مطابق جمہوریت، انصاف اور مساوات کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرے، مجھے یقین ہے کہ ہم متحد ہو کر تمام رکاوٹوں کو عبور کریں گے اور اپنے پیارے پاکستان کیلئے ایک بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں گے۔

یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ میں یوم پاکستان کے پرمسرت موقع پر آپ سب کیلئے نیک خواہشات کا اظہار اور دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج ہم تاریخی قراردا ِپاکستان کی منظوری کی یاد منا رہے ہیں جب 23 مارچ 1940 کو ہماری عزیر قوم اور ایک آزاد وطن کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی، آئیے ، آج ہم اپنے گزشتہ سفر پر غور کریں، اپنی کامیابیوں کا جشن منائیں اور ایک خوشحال اور متحد پاکستان کیلئےاپنے عزم کا اعادہ کریں۔

صدر نے کہا کہ آج اگر ہم تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو ہمارے آبائو اجداد کے وژن اور عزم کی یاد تازہ ہوتی ہے، 1940 کی قرارداد ِپاکستان ہماری تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے ، اس قرارداد سے 14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کا راستہ ہموار ہوا، قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کیلئے انتھک محنت کی اور آج کے دن ہم ان کے عزم اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے لے کر اب تک کے سفر میں ہم نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ،

ہماری مسلح افواج، سول انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر متزلزل عزم کے ساتھ، ہماری قوم کی حفاظت، سلامتی اور خودمختاری کو یقینی بنایا ، دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جنگ میں ان کا فاتحانہ کردار، قدرتی آفات کے دوران فرض کی پکار پر تیز ردعمل اور دنیا بھر میں امن مشنز میں ہمارا کردار عالمی امن اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ہمارے غیر متزلزل عزم کا نمایاں اظہار ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی تحریک پاکستان کے دوران اور غیر قانونی بھارتی زیرتسلط جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد میں دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں بدترین جبر اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں، ہندوتوا کے ایجنڈے سے متاثرہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی یکطرفہ منسوخی اس کی ایک مثال ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

ہمارے آبائو اجداد نے پاکستان کیلئے بے مثال قربانیاں دیں،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے تحریک آزادی کے رہنماؤں کی انتھک اور مسلسل سیاسی جدوجہد سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ،ہمارے آبائو اجداد نے پاکستان کیلئے بے مثال قربانیاں دیں، مہنگائی، بے روزگاری، گردشی قرضے ، مالیاتی اور تجارتی خسارے اور دہشت گردی کی عفریت سمیت ملک کو درپیش چیلنجوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، مربوط پالیسی اصلاحات کے ذریعے ملکی معاشی بحالی اور خوشحالی کیلئے پرعزم ہیں ۔
یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ میں اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ’’یوم پاکستان‘‘ پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، 23 مارچ ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے، 1940 میں اسی دن برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے تاریخی ’’قرارداد لاہور‘‘ کے ذریعے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا جہاں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے اپنی زندگی گزار سکیں، تحریک آزادی کے رہنماؤں کی انتھک اور مسلسل سیاسی جدوجہد سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کے لئے مثالی قربانیاں دیں، لاکھوں مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا، نئی ریاست کو بے پناہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں سماجی، اقتصادی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کی تشکیل اور مہاجرین کی آباد کاری شامل تھیں، نئی ریاست کو انتہائی کم وسائل کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرنا پڑا تاہم قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں نئی ریاست کو درپیش ان گھمبیر چیلنجوں کے باوجود ایک آزاد جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں